Header Ads

Booking.com
Breaking News
recent

چلّاس : قدرتی ںظاروں کی جنت

چلّاس ضلع دیامیر کا ہیڈ کوارٹر اور کافی بڑا شہر ہے۔ چلّاس سے رائے کوٹ پل تک پچپن کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو ہے۔ فیری میڈوز جانے کے لئے جیپیں رائے کوٹ پل سے ملتی ہیں۔ رائے کوٹ پل پر قیام و طعام کی سہولتوں کے بارے میں ہم مکمل طور پرلا علم تھے۔ طاہر کا خیال تھا کہ ہمیں رائے کوٹ پل پر ہی اترنا چاہئے کیونکہ ہمارے ٹکٹ وہاں تک کے ہیں۔ قیام کے لئے کوئی نہ کوئی ہوٹل تو ہو گا ہی اور کھانا بھی برا بھلا جیسا ہوا، مل ہی جائے گا۔ فائدہ یہ ہو گا کہ صبح فوراً ہی جیپوں پر سوار ہو کر فیر ی میڈوز کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ 

میرا اور چوہدری رشید کا خیال تھا کہ ہمیں چلّاس میں رکنا چاہئے کیونکہ 30 گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد ہمیں آرام دہ کمروں اور خوش ذائقہ خوراک کی اشد ضرورت تھی۔ ابھی تک چلّاس یا رائے کوٹ کے بارے میں ہی فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ یہ نیا شگوفہ سامنے آ گیا۔ جگلوٹ رائے کوٹ پل سے بھی آگے تقریباً 45 منٹ کے فاصلے پر تھا۔ ’’یہ جگلوٹ کہاں سے آ گیا۔ ‘‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا۔ ’’ہمارے ٹکٹ تو رائے کوٹ پل تک کے ہیں۔ ‘‘ ’’آپ جگلوٹ کے لئے اور ٹکٹ بنواؤ۔ ‘‘ مقامی شخص نے مشورہ دیا۔ ’’لیکن کیوں بنوائیں ! کیا جگلوٹ چلّاس سے بڑا شہر ہے ؟‘‘ ’’ناں جی ناں۔۔۔۔ بڑا تونئیں اے۔ ‘‘ ’’وہاں چلّاس کی نسبت بہتر ہوٹل ہیں ؟‘‘ ’’ناں جی ناں۔۔۔ اوٹل تو چلّاس کا زیادہ اچّا اے ‘‘ ’’پھر ہم جگلوٹ کیوں جائیں ؟‘‘ میں نے زچ ہو کر پوچھا۔ ’’جگلوٹ اور رائے کوٹ بالکل پاس پاس اے۔ ‘‘ ’’اگرصرف نزدیک ہونا ہی اتنی بڑی خوبی ہے تو پھر ہم رائے کوٹ پل پر ہی کیوں نہ اتریں ؟‘‘ 

وہ شخص کچھ نہ بولا۔ ’’میرا اندازہ ہے ہم آٹھ نو بجے کے درمیان چلّاس پہنچ جائیں گے … اور آپ کی تجویز پر عمل کر کے ہم رات کے گیارہ یا شاید بارہ بجے جگلوٹ پہنچیں گے۔۔۔ پھر ہوٹل تلاش کرنے۔۔۔ اور کھانا کھانے کے لئے کم از کم دو گھنٹے مزید درکار ہوں گے … اور سوتے سوتے ہمیں۔۔۔ ‘‘ ’’ ناں جی ناں۔۔۔۔ اوٹل آپ نئیں ام تلاش کرے گا … اور تلاش کیوں کرے گا؟۔۔۔ اُدر پر امارے کزن کا اوٹل ہے آپ اْدر چلو۔۔۔۔ اور آپ اْدر کیوں چلو؟۔۔۔۔ ام آپ کو لے جائے گا۔ ‘‘ ’’اوہ ویری گڈ۔ ‘‘ میں نے سمجھتے ہوئے کہا ’’اور وہاں ہمیں رات کے پچھلے پہر کھانا مل جائے گا؟‘‘ 

’’آپ بولو گے تو کیوں نئیں ملے گا؟۔ ‘‘ ’’تقریباً ایک ڈیڑھ بجے بھی کھانا ملا تو سوتے سوتے ہمیں دو اڑھائی بج جائیں گے اور ہم صبح پانچ چھ بجے اْٹھ کر رائے کوٹ پل کے لئے سفر شروع کریں گے۔۔۔۔۔ ٹھیک؟‘‘ ’’ ٹیک ہو گا نا ں ! رائے کوٹ اور جگلوٹ بالکل پاس پاس تو اے۔ ‘‘ ’’اس سے بہتر یہ نہیں کہ ہم تقریباً آٹھ بجے چلّاس اتر جائیں۔ اور آٹھ دس گھنٹے کی پرسکون نیند لے کر صبح چلّاس سے رائے کوٹ پل چلے جائیں ؟‘‘ وہ شخص محض کاندھے اچکا کر رہ گیا۔ طاہر بھی اصل بات سمجھ چکا تھا۔ وہ شخص ہمیں صرف اس لئے جگلوٹ کا راستہ دکھا رہا تھا کہ اپنے کزن کے ہوٹل کے لئے گاہک کا بندوبست کر دے اور اسے تھوڑا بہت کمیشن مل جائے۔ 

اسی دوران ایک اور مقامی شخص جو ہماری گفتگو سن کر قریب آ گیا تھا پہلے والے شخص پر خفا ہونے لگا کہ وہ ہمیں غلط گائیڈ کیوں کر رہا ہے۔ اس نے ہمیں چلّاس میں قیام کرنے کا مشورہ دیا۔ چلّاس میں ہر قسم کی سہولت موجود ہے اور ہوٹل اور کھانا دونوں کا معیار کافی اچھا ہے۔ اس طرح ہم نے چلّاس میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ تلاشی کا کام مکمل ہوا تو بس روانہ ہوئی اور تقریباً فوراً ہی ہم نے دریائے سندھ پر چینی دوستوں کا بنایا ہوا پل دیکھا جو وادیٔ تنگیر کو شاہراہِ قراقرم سے ملاتا ہے۔ آٹھ بجکر دس منٹ پر ہم چلّاس کے بس سٹاپ پر اترے تو انتہائی گرم ہوا کے تھپڑوں نے ہمارا استقبال کیا۔ رات کو بھی اتنی تیز اور گرم ہوا نے ہمیں پریشان کر دیا، اتنی گرمی تو وہاڑی میں بھی نہیں تھی۔ چلاس دراصل مون سون ہواؤں کی زد میں نہیں آتا اس لئے یہاں بارش بہت کم ہوتی ہے اور یہاں کی گرمی بھی ملتان کی گرمی کی طرح مشہور ہے۔
 

ڈاکٹر محمد اقبال ہما


No comments:

Powered by Blogger.