Header Ads

Breaking News
recent

فلک بوس چوٹیوں کے دامن میں واقع مدین کی وادی

حسین سبزہ زاروں ، گھنے جنگلات اور برف کی سپید فرغل پہنی ہوئی فلک بوس چوٹیوں کے دامن میں واقع مدین کی وادی، سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے 52 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ پختہ سڑک کے ذریعے مینگورہ سے منسلک ہے اور سطح سمندر سے اس کی بلندی 4334 فٹ ہے۔ مدین سوات کی حسین ترین وادیوں میں سے ایک ہے۔ جہاں ہر طرف رنگینی، دل کشی، رعنائی اور حسن کا راج ہے۔ دریائے سوات کے کنارے واقع یہ خوب صورت مقام دلوں میں نئی اُمنگ پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس وادی کا رخ کرتے ہیں یہاں کے دل فریب مناظر میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔ 

مدین کی حدود پیا خوڑ (پیاندی) سے لے کر مشکون گٹ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہاں کی کل آبادی قریباً 50 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی قدیم تہذیب میں رنگے ہوئے ہیں۔ مذہبی لحاظ سے پکے مسلمان ہیں۔ جنگ و جدل کو پسند نہیں کرتے اور امن و آشتی سے رہنے والے یہ لوگ بڑے مہمان نواز ہیں۔ مدین کا پُرانا نام ’’چوڑڑئی‘‘ ہے۔ یہ نام وادیٔ سوات میں بُدھ مت کے دورِ عروج میں اُسے دیا گیا تھا۔ بعد میں والیٔ سوات میاں گل عبدالحق جہان زیب نے اسے مدین کے نام سے تبدیل کیا۔ مدین کے قرب و جوار میں کئی خوب صورت علاقے موجود ہیں۔ جن میں بیلہ، بشی گرام، شنڑکو، تیراتھ، قندیل، دامانہ، آریانہ، مورپنڈی، چورلکہ، شاہ گرام، الکیش، کالاگرام، شیگل اور گڑھی نامی گاؤں کافی مشہور ہیں۔ ان علاقوں کی خوب صورتی اور حسین مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان میں بعض علاقوں تک پختہ سڑک کی غیر موجودگی نے ان خوب صورت مقامات کو سیاحوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔

 ان علاقوں میں تیراتھ ایک حسین و جمیل علاقہ ہے جو مدین سے جنوب کی طرف دریائے سوات کی مغربی سمت واقع ہے۔ یہ علاقہ قدیم تہذیب و ثقافت، تاریخ و تمدن اور آثارِ قدیمہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پر آثارِ قدیمہ کافی وسیع رقبے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جن پر کچھ عرصہ قبل محکمہ آثارِ قدیمہ نے باضابطہ طور پر کام شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بدھ مت سے متعلق بہت سی قیمتی اشیا اور نوادرات برآمد ہوئے تھے۔ یہاں مولا مولئی کے مقام پر ایک چٹان پر انسانی پاؤں کے نشانات بھی ملے ہیں۔ 

جُونوسر، بابوسر، شاہی سر اور میخو سر تیراتھ کی مشہور پہاڑی چوٹیاں اور سیر گاہیں ہیں۔ ان میں جونو سر کی چوٹی کو نمایاں تاریخی مقام حاصل ہے۔ اس کی بلندی دس ہزار فٹ سے لے کر پندرہ ہزار فٹ تک ہے۔ اس کی چوٹی پر سیاحوں کے لئے سیر و سیاحت کی بہت سی دلچسپیاں موجود ہیں۔ یہ پہاڑ قدیم سوات کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں اگر ایک طرف سوات کے قدیم قبائل کی گم شدہ کڑیاں ملتی ہیں تو دوسری جانب یہاں ایسے آثار اور روایات بھی موجود ہیں جن سے زرتشت مذہب، بدھ مذہب اور آریا مت (ہندو) کے متعلق گراں قدر معلومات ہاتھ آ سکتی ہیں۔ 

اس پہاڑ میں ’’سوما‘‘ (اسے بوٹنی میں اِفیڈرا پلانٹ کہا جاتا ہے اور اس سے ایفیڈرین نامی دوائی کشید کی جاتی ہے) نامی پودا بھی پایا جاتا ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ ہر قسم کی جسمانی قوت کے لئے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوؤں کی مذہبی کتاب رِگ وید کے مطابق یہ پودا بہت قوت بخش ہے اور قدیم زمانے میں یہ روحانی قوت بڑھانے کا ایک بڑا محرک بھی سمجھا جاتا تھا۔ قدیم کتابوں میں اس پودے کے حیرت انگیز کرشمے بیان کئے گئے ہیں۔ اس پودے سے ’’سوم رس‘‘ نامی شراب بھی نکالی جاتی تھی،جس کا ذکر سوم رس کے نام سے ہندوؤں کی قدیم مقدس کتابوں میں تفصیل سے ملتا ہے۔ تیراتھ اور مدین کے درمیان تین چار مقامات پر دریائے سوات پر لکڑیوں اور رسیوں کے اشتراک سے خوب صورت پل بنے ہوئے ہیں جن کے ذریعے متعلقہ علاقوں تک نقل و حمل میں بہت آسانی رہتی ہے۔ ان پلوں سے دریا اور ارد گرد کے دل کش مناظر بہت سرور انگیز اور فرحت بخش محسوس ہوتے ہیں۔ 

وادیٔ مدین سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا علاقہ چیل ہے جو حقیقی طور پر فردوسِ بریں کا منظر پیش کرتا ہے۔ وادیٔ مدین کے بلند پہاڑوں کی چوٹیاں ہر وقت برف سے ڈھکی رہتی ہیں ۔ یہاں کے ندی نالے اور گن گناتے آبشار کائنات کے فطری حسن و جمال کے حقیقی مظہر ہیں۔ پہاڑوں کے دامن میں واقع یہ وادی بلاشبہ بہت خوب صورت ہے۔ اس کے ایک طرف دریائے سوات بپھرے ہوئے شیر کی مانند دھاڑتا ہوا بہہ رہا ہے اور دوسری طرف چیل خوڑ دریائے سوات سے جا ملتی ہے۔ چیل خوڑ کو دریائے بشی گرام بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دریا، دریائے سوات کا معاون دریا ہے اور اس کا اصل منبع بشی گرام جھیل ہے۔ چیل اور اس کے ارد گرد علاقوں سے بھی برف کا پانی پگھل کر بشی گرام خوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ مدین میں پل پر سے دریائے بشی گرام اور دریائے سوات کے اتصال کا منظر نہایت دل کش ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وادیٔ مدین میں پھلوں اور دیگر میوہ جات کے بڑے بڑے باغات ہیں۔ جن میں سیب کے باغات کافی مشہور ہیں۔ یہاں جوار، مکئی، آلو، املوک، اخروٹ، آلوچہ،اور عناب وغیرہ بھی وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔

 فضل ربی


No comments:

Powered by Blogger.