Header Ads

Booking.com
Breaking News
recent

شمالی علاقوں کی جھیلیں اور گلیشیئر

اس کیبن کے سامنے ایک نوجوان میٹرس پر دراز تھا۔ اس کے جسم پر موجود ہائی آلٹی چیوڈ جیکٹ، بیشمار جیبیں رکھنے والا کاٹن کا نیلا ٹراؤزر، کیمپ شوز اور قیمتی چشمے اسے شوقیہ ’ٹریکر‘ سے کچھ اونچی چیز ثابت کر رہے تھے۔ خدوخال سے وہ مقامی لگتا تھا ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ اسے ڈسٹرب کرنا مناسب بھی ہو گا یا نہیں کہ وہ خود ہی اٹھ بیٹھا۔ ’’السلام علیکم۔ ‘‘ ’’وعلیکم السلام۔ ‘‘ میں نے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ ’’مجھے عثمان ڈار کہتے ہیں۔ ‘‘ ’’میرا نام اقبال ہے، آپ کہاں سے آئے ہیں ؟‘‘ ’’گلگت سے۔ ‘‘ ’’اچھا؟ گلگت کے باسی بھی پہاڑوں کی سیر کے شوقین ہوتے ہیں ؟ ‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ ’’ میں اس وقت گلگت سے آیا ہوں ورنہ میں اسلام آباد کا رہنے والا ہوں۔ ‘‘

’’گلگت بھی سیر کے لئے گئے تھے؟‘‘ ’’ وہاں ملازمت کے سلسلے میں گیا تھا۔ ‘‘ ’’آپ کونسے محکمے میں ہیں ؟‘‘ ’’ ذرا غیر معروف سا محکمہ ہے، واٹر ریسورسز ریسرچ انسٹیٹیوٹ اسلام آباد۔ ‘‘ ’’میں نے یہ نام پہلی بار سنا ہے۔ ‘‘ میں نے اعتراف کیا۔ ’’ آپ کا محکمہ کیا کرتا ہے؟‘‘ ’’ہم پاکستان کے آبی ذخائر پر ریسرچ کرتے ہیں۔ آجکل ایک خاص سروے کر رہے ہیں جس میں ہم یہ اندازہ لگانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں کتنی گلیشیئر جھیلیں (Glacier Lakes) ہیں ا ور اِن میں سے کتنی ایسی ہیں جو خطرے کا باعث ہو سکتی ہیں۔ ‘‘

’’ گلیشیئر لیک کوئی خاص قسم کی جھیل ہے؟‘‘ ’’بالکل … کچھ تو مستقل جھیلیں ہوتی ہیں جیسے نلتر جھیل، کچورا جھیل یا پھر جھیل سیف الملوک۔۔۔ ’’جبکہ کچھ جھیلیں گلیشیئر کے پگھلنے کی وجہ سے گلیشیئر کے درمیان میں بنتی ہیں اور جب پورا گلیشیئر پگھل جاتا ہے، یعنی جھیل کی دیواریں ختم ہو جاتی ہیں تو پانی بہہ نکلتا ہے اور ارد گرد کے علاقوں کو خاصا نقصان پہنچتا ہے۔ ‘‘ ’’اس کا مطلب ہے آپ اس وقت ڈیوٹی پر ہیں ؟‘‘ ’’کسی حد تک۔۔۔ ورنہ کوہ پیمائی میرا ذاتی شوق ہے۔ ‘‘ ’’اگر کسی شخص کو اس کے شوق کے مطابق ہی جاب مل جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کی خاص کرم نوازی سمجھنا چاہئے۔ 

کیا یہاں بھی کوئی گلیشیئر جھیل ہے؟‘‘ ’’بالکل ہے اور بہت خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ اگر آپ ہائی کیمپ جائیں تو یہ جھیل دیکھ سکتے ہیں۔ ‘‘ ’’ہائی کیمپ ؟‘‘ میں نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ ’’اس جگہ کو لوئر بیس کیمپ کہتے ہیں ، سامنے والی پہاڑی کو کراس کر لیں تو ہائی کیمپ آ جاتا ہے۔ ‘‘ اس نے ایک پہاڑی کی طرف اشارہ کیا۔ ’’بس۔۔۔ بس۔۔۔۔ ‘‘ میں نے گھبرا کر کہا۔ ’’پہاڑی کراس کرنے کا نام نہ لیں ورنہ میں بیہوش بھی ہو سکتا ہوں۔ ‘‘ عثمان ہنسنے لگا۔ ’’اقبال صاحب۔۔۔ میرا تو آپ نے پورا انٹرویو لے ڈالا اور اپنا صرف نام بتایا ہے اور وہ بھی ادھورا۔۔۔ کیا یہ زیادتی نہیں؟‘‘ ’’سوری۔۔۔ ‘‘ میں نے شرمندگی سے کہا اور اپنا تعارف کروایا۔ ’’ڈاکٹر صاحب آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور حیرانی بھی، میرا خیال تھا کہ ڈاکٹروں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ٹریکنگ جیسے مشاغل اپنائیں۔ ‘‘ 

’’میں نہ تو بہت مصروف ڈاکٹر ہوں اور نہ ہی باقاعدہ ٹریکر۔۔۔۔ اور ہمارے اس سفر کو آؤٹنگ تو کہا جا سکتا ہے، ٹریکنگ کہنا بے ایمانی ہو گی۔۔۔۔۔ خیر آپ یہ بتائیں کہ کیا آس پاس کوئی اور گلیشیئر لیک نہیں ہے جسے ذرا آسانی سے دیکھا جا سکے ؟‘‘ ’’اتفاق ہے کہ یہاں اور کوئی ایسی جھیل نہیں ہے ورنہ شمالی علاقہ جات میں پانچ ہزار دو سو اٹھارہ گلیشیئر جھیلیں پائی جاتی ہیں۔ ‘‘ ’’پانچ ہزار؟۔۔۔ واقعی۔۔۔۔ آپ پانچ سو تو نہیں کہنا چاہتے؟‘‘ ’’پانچ۔۔۔ ہزار جناب۔۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ صرف تریپن ایسی ہیں جنہیں آبادی کے لئے خطرناک کہا جا سکتا ہے۔ ‘‘۔ ’’اور اِس جھیل کا راستہ خطرناک ہے۔ ‘‘ میں نے حسرت سے کہا۔ ’’کاش یہ نامعقول پہاڑی راہ میں حائل نہ ہوتی۔ ‘‘ ’’خطرناک؟ نہیں نہیں ، دْشوار تو کہہ سکتے ہیں لیکن خطرناک نہیں ہے۔ ‘‘ 

’’آپ وہاں سے ہو آئے ہیں ؟‘‘ ’’میں آج وہیں سے واپس آیا ہوں۔ ‘‘ ’’آپ وہاں کتنی دیر میں پہنچے اور۔۔۔ اور آپ نے وہاں کیا دیکھا؟‘‘ ’’میں چھ گھنٹے میں وہاں پہنچ گیا تھا، پھر میں نے پنگا لے لیا۔ ‘‘ ’’کیسا پنگا؟‘‘ ’’میں نے سوچا جس راستے سے آیا ہوں اْسی سے واپس جانے کی بجائے کیوں نہ گلیشیئر عبور کر کے پہاڑی کی دوسری جانب سے نیچے اتروں۔ ‘‘ ’’پھر؟‘‘ ’’پھر یہ کہ میں چلتے چلتے بے دم ہو گیا مگر سفر ختم نہیں ہو رہا تھا۔ بالآخر مجھے یقین ہو گیا کہ میں راستے سے بھٹک گیا ہوں۔ مجھے ٹینشن ہونے لگی اور اسی ٹینشن میں ایک جگہ میں پھسل گیا۔ ‘‘ ’’پھسل گئے ؟‘‘ میں نے خوفزدہ انداز میں دہرایا۔ میں اِن راستوں پر پھسلنے کے نتائج سے کسی حد تک آگاہ تھا۔ ’’ہا ں اور نیچے انتہائی گہری کھائی تھی۔ میں تقریباً تیس چالیس میٹر نیچے سلائڈ کر چکا تھا کہ میری سٹک ایک پتھر میں اٹک گئی اور خدا کا شکر ہے کہ میں سنبھل گیا۔ پھسلنے کے بعد ذرا عقل آ گئی تھی اس لئے قطب نما کا سہارا لیا اور شکر ہے راستہ ملتا گیا … واپسی کے سفر میں مجھے گیارہ گھنٹے لگے۔

ڈاکٹر محمد اقبال ہما


 

No comments:

Powered by Blogger.